HoHaHe.Com

Columnist
A comprehensive archive based on best Pakistani newspaper columns, which let us to meet best columnist of Pakistan at a single place. You can see here latest columns on current affairs, Point of views of famous personalities regarding changing atmosphere of the country.
مجید نظامی کو مبارک ہو
Add to FacebookAdd to MySpaceAdd to DiggAdd to del.icio.usAdd to Newsvine
09 Feb 2009
(0) Comment

گزشتہ ہفتے کا اہم اور خوشگوار ترین واقعہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر قدیر خان کی نظربندی ختم کردی‘ اس سے بھی بڑھ کر اہم اور خوشگوار ترین واقعہ یہ ہے کہ حکومت نے بھی ختم کردی ورنہ اس سے قبل بھی عدالتوں نے کئی پسندیدہ فیصلے کئے جنہیں حکومتوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اب تو عدلیہ کے حوالے سے نئے نئے تاثر پیدا ہونے لگے ہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے عدلیہ وہی فیصلے کرتی ہے جس سے سرکاری ناراضگی کا اندیشہ نہ ہو۔ اس تاثر کو درست مان لیا جائے تو ڈاکٹر قدیر خان کی رہائی کے فیصلے میں یقیناً سرکار کی مرضی شامل ہوگی بہرحال قوم سرکار کی شکر گزار ہے کہ جس نے عدلیہ کے اس فیصلے کو شرفِ قبولیت بخشا۔ محسنِ پاکستان اب آزاد ہیں مگر اس آزادی کی انہیں حفاظت کرنا ہوگی ۔ وہ ایک قیمتی شخص ہیں‘ اُن کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں اور پاکستان کے دشمن جتنے پاکستان کے اندر ہیں شاید باہر بھی نہیں ہوں گے۔ ان حالات میں سرکار کا فرض ہے اُن کی حفاظت کا غیرمعمولی انتظام کرنے اس ضمن میں خود محسنِ پاکستان کو بھی سرکار سے تعاون کرنا چاہئے کہ اس کے بغیر اُن کی ویسی حفاظت ممکن نہیں ہو سکے گی جس کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر قدیر خان کی رہائی پر ملک بھر میں جشن منایا گیا۔ مٹھائیاں تقسیم ہوئیں‘ لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے رہے۔ معزول ججوں کو آزاد کرنے کے بعد موجودہ سرکار کا یہ دوسرا بڑا چھکا ہے جس پر وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ خصوصاً صدر مملکت جناب آصف زرداری جن کے بارے میں حال ہی میں اُن کے ’’بڑے بھائی‘‘ یعنی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ جناب نوازشریف نے تبصرہ کیا کہ ’’دیکھیں زرداری صاحب کی عدلیہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؟‘‘ ڈاکٹر قدیر خان کو رہا کر دیا گیا ہے تو امید ہے ’’زرداری صاحب کی عدلیہ‘‘ جناب نوازشریف کے ساتھ بھی اچھا سلوک ہی کرے گی۔
ڈاکٹر قدیر خان نے فرمایا صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اُن کی نظربندی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘ چلئے شکر ہے صدر مملکت اور ان کی پارٹی کے وزیراعظم قوم کے مفاد میں کسی ایک فیصلے پر تو متفق ہوئے۔ اب امید کی کرن پیدا ہوئی ہے دونوں مل کر قوم کے مزید مفادات کا بھی خیال رکھیں گے۔ دونوں کا اکٹھے رہنا بھی قوم کے مفاد میں ہے کہ جمہوریت پسند طاقتیں تو تاک لگائے بیٹھی ہیں کب سیاسی حکمران آپس میں دست و گریباں ہوں اور انہیں ہی ’’نعرۂ مستانہ‘‘ لگانے کا موقع ملے کہ ’’مجھے دھکا کس نے دیا تھا؟‘‘
میں سوچ رہا تھا محسنِ پاکستان کی نظربندی ختم ہونے کی مبارک کیسے دوں؟ ویسے تو پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے مگر اصل حق نوائے وقت اور اس کے مدیر جناب مجید نظامی کا ہے جنہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہای کیلئے انتہائی موثر کردار ادا کر کے ثابت کر دیا کہ پاکستان اور پاکستان کو قوت بخشنے والی شخصیات کا مفاد انہیں ہمیشہ عزیز رہے گا۔ قومی سطح پر محسنِ پاکستان کے حق میں کچھ آوازیں ضرور بلند ہوتی رہیں مگر یہ حقیقت ہے قوم اپنے ہیرو کی مشکلات میں وہ کردار ادا نہیں کر سکی جو اسے کرنا چاہئے تھا۔ یہ پرچم جناب مجید نظامی نے سالہاسال اُٹھائے رکھا اور اس ضمن میں کسی خوف‘ خطرے یا دھمکی کو خاطر میں نہیں لائے۔ اب اگر اپنی نظربندی ختم ہونے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سب سے پہلے لاہور جا کر مجید نظامی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تو یہی بات ہے یہ اُن کا حق بنتا ہے۔ ملک دشمن قوتیں کسی بھی شرپسندی میں ایکٹو ہونا چاہیں تو سب سے بڑا خطرہ انہیں مجیدنظامی سے ہی محسوس ہوتا ہے‘ سو ’’محبِ وطن حکمرانوں کو ان کی قدر کرنا چاہئے اور اُن مسلم لیگی رہنمائوں کو بھی جو بھری محفل میں ان کے ہم حکم کی تعمیل کی بات کرتے ہیں اور پھر مکر جاتے ہیں۔ وہ ایک نیک نیت انسان ہیں ڈاکٹر قدیر خان کی رہائی کیلئے کی جانے والی کوششوں کا پھل انہیں ملا ہے تو مسلم لیگ کو ایک کئے جانے کی کوششیوں کا پھل بھی ضرور ملے گا۔ کاش مسلم لیگ کو ’’ذاتی جاگیر‘‘ سمجھنے والے
لیگی رہنما جناب مجید نظامی کے جذبوں کو بھی سمجھ سکیں۔ نظامی صاحب نے کسی زمانے میں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کو ’’مردِحُر‘‘ کا خطاب دیا تھا یوں محسوس ہوتا ہے اس ’’خطاب‘‘ کے لاج رکھنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور محسنِ پاکستان کی نظربندی ختم کرنے کا ’’عدالتی فیصلہ‘‘ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں اب اس خطاب کے اعزاز کو مزید سنبھالا دیا جائے گا‘ پاکستان کو امریکہ کی غلامی سے آزاد کر کے جنت کے ایسے ٹکڑے میں تبدیل کر دیا جائے جس کا خواب اقبالؒ نے دیکھا اور قائدؒ نے تعبیر دکھا دی۔ جناب مجید نظامی ہمیشہ پاکستان کو قائداعظمؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ صدر آصف زرداری کو اللہ نے موقع فراہم کیا ہے کہ خود کو ’’مردِ حُر‘‘ کا خطاب دینے والے کی اس خواہش کا احترام کریں۔ روشن خیال جرنیل کی حکمرانی نے نو برسوں میں ملک و قوم پر جو گھائو لگائے اب اُن پر مرہم رکھنے کا وقت ہے۔ یہ وقت ضائع کر دیا گیا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری سیاسی حکمرانوں پر ہی ہوگی۔ ہم خواب دیکھنے والے لوگ ہیں۔ آئیے خواب دیکھیں مستقبل میں پاکستان کا قد دنیا میں پھر سے بلند دکھائی دینے لگے گا سیاسی حکمران ’’اقتداری خواہشات‘‘ سے بالا تر ہو کر ملکی مفاد کو ترجیح دیں گے۔ قومی ادارے اور ان سے وابستہ شخصیات ایک دوسرے کے چھابے میں ہاتھ مارنے کے بجائے اپنا اپنا کام لگن اور دیانتداری سے کریں گی خصوصاً تخت نشینی کی خواہش رکھنے والے جرنیل اب ملک کی حالت پر رحم فرمائیں گے اور سولہ کروڑ بھیڑ بکریاں بھی ثابت کر دیں گی کہ وہ ایک قوم ہیں۔ ایسی قوم جس کیلئے قائدؒ نے الگ ملک کی تمنا کی۔ تب کسی ہندوستانی دانشور کو یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوگی کہ ’’1947ء میں برصغیر کے مسلمان ایک قوم تھے جنہیں ایک ملک کی ضرورت تھی‘ پھر قائداعظمؒ جیسا لیڈر پیدا ہوا جس نے ملک بنایا۔ آج اس ملک کو ایک قوم کی ضرورت ہے‘‘ … کاش یہ وقت ہمارے سب خوابوں کی تعبیر کا وقت ہو … کاش اے کاش …!

Afserana Thor Phor
Add to FacebookAdd to MySpaceAdd to DiggAdd to del.icio.usAdd to Newsvine
20 Jan 2009
(0) Comment

Shaadi, Saadegi
Add to FacebookAdd to MySpaceAdd to DiggAdd to del.icio.usAdd to Newsvine
17 Jan 2009
(0) Comment

Kagaz Key Phool
Add to FacebookAdd to MySpaceAdd to DiggAdd to del.icio.usAdd to Newsvine
15 Jan 2009
(0) Comment

Leraai Leraai Maaf!
Add to FacebookAdd to MySpaceAdd to DiggAdd to del.icio.usAdd to Newsvine
13 Jan 2009
(0) Comment

Page 1 of 1
Paksitani Columns, Urdu Columns, Pakistani editorials, Pakistani articles, Pakistani Urdu Columns, Pakistan columnist, Pakistani columnist, pakistan politics, pakistani news paper columns, pakistani news paper articles, urdu news papers, urdu columns, urdu articles, urdu editorials, Columns of the Day, Top Latest Pakistani Columns, Latest Newspaper Articles